OGTT: طریقۂ کار، اور ذیابیطس و حمل کی ذیابیطس میں اس کا کردار
OGTT کیا ہے؟
اورل گلوکوز ٹولرینس ٹیسٹ (OGTT) ایک لیبارٹری ٹیسٹ ہے جو یہ جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ جسم گلوکوز (شوگر) کو استعمال اور کنٹرول کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں مخصوص مقدار میں گلوکوز پینے کے بعد مختلف اوقات میں خون میں شوگر کی سطح کی پیمائش کی جاتی ہے۔
OGTT عام طور پر درج ذیل کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے:
- پری ذیابیطس (Prediabetes)
- ٹائپ 2 ذیابیطس (Type 2 Diabetes)
- حمل کی ذیابیطس (Gestational Diabetes Mellitus - GDM)
چونکہ یہ ٹیسٹ گلوکوز کے بوجھ (Glucose Load) کے بعد جسم کے ردِعمل کا جائزہ لیتا ہے، اس لیے یہ شوگر کے میٹابولزم میں ایسی خرابیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے جو صرف فاسٹنگ بلڈ شوگر ٹیسٹ سے معلوم نہ ہوں۔
OGTT (Oral Glucose Tolerance Test) کا طریقۂ کار
OGTT ایک ایسا ٹیسٹ ہے جو یہ جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ جسم گلوکوز (شوگر) کو کتنی مؤثر طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ ذیابیطس اور حمل کی ذیابیطس (Gestational Diabetes) کی تشخیص میں اس کا اہم کردار ہے۔
75 گرام OGTT (عام طور پر ذیابیطس یا Gestational Diabetes کی تشخیص کے لیے)
- مریض کو ٹیسٹ سے پہلے کم از کم 8 سے 12 گھنٹے فاسٹ (بھوکا) رہنا ہوتا ہے۔
- سب سے پہلے فاسٹنگ بلڈ گلوکوز کا نمونہ لیا جاتا ہے۔
- اس کے بعد مریض کو 75 گرام گلوکوز پر مشتمل محلول یا شربت پینے کے لیے دیا جاتا ہے۔
- گلوکوز محلول پینے کے بعد 1 گھنٹے اور 2 گھنٹے کے وقفے پر خون کے نمونے لیے جاتے ہیں اور ان میں گلوکوز کی مقدار ناپی جاتی ہے اور پھر نتائج کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔
75 گرام OGTT میں Gestational Diabetes کی تشخیصی حدود
| وقت | غیر معمولی (Gestational Diabetes کے حق میں) |
|---|---|
| فاسٹنگ | ≥ 92 mg/dL |
| 1 گھنٹہ | ≥ 180 mg/dL |
| 2 گھنٹے | ≥ 153 mg/dL |
ان میں سے کسی ایک قدر کا بھی حد سے زیادہ ہونا Gestational Diabetes کی تشخیص کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
100 گرام OGTT (Three-Hour OGTT)
بعض مراکز میں حمل کی ذیابیطس کی تشخیص کے لیے 100 گرام OGTT استعمال کیا جاتا ہے۔
- مریض 8 سے 12 گھنٹے فاسٹ رہتا ہے۔
- فاسٹنگ بلڈ گلوکوز کا نمونہ لیا جاتا ہے۔
- مریض کو 100 گرام گلوکوز پر مشتمل محلول یا شربت پینے کے لیے دیا جاتا ہے۔
-
گلوکوز محلول پینے کے بعد خون کے نمونے درج ذیل اوقات یا وقفے پر لیے جاتے ہیں:
- 1 گھنٹہ بعد
- 2 گھنٹے بعد
- 3 گھنٹے بعد
- اور ان حاصل شدہ خون کے نمونوں کے نتائج کا موازنہ تجویز کی گئی تشخیصی حدود سے کیا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔
100 گرام OGTT میں Gestational Diabetes کی تشخیصی حدود (Carpenter-Coustan Criteria)
| وقت | غیر معمولی قدر |
|---|---|
| فاسٹنگ | ≥ 95 mg/dL |
| 1 گھنٹہ | ≥ 180 mg/dL |
| 2 گھنٹے | ≥ 155 mg/dL |
| 3 گھنٹے کے وقفے پر | ≥ 140 mg/dL |
100 گرام OGTT میں عموماً چار میں سے کم از کم دو اقدار کا غیر معمولی ہونا Gestational Diabetes کی تشخیص کے حق میں سمجھا جاتا ہے۔
اگر OGTT کے دوران دو یا زیادہ نتائج اوپر تجویز کردہ حدود سے زیادہ آئیں تو اسے حمل کے دوران ذیابیطس یعنی کہ (Gestational Diabetes) سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح اگرچہ دونوں ٹیسٹوں کا بنیادی طریقہ کار ایک جیسا ہے، لیکن استعمال ہونے والی گلوکوز کی مقدار، ٹیسٹ کا دورانیہ، خون کے نمونے لینے کے اوقات اور تشخیصی حدود مختلف ہو سکتی ہیں۔
ذیابیطس کے لیے OGTT کی تشخیصی اقدار کیا ہیں؟
غیر حاملہ بالغ افراد میں 75 گرام OGTT کے لیے عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن (ADA) کی درج ذیل اقدار عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔
نارمل گلوکوز ٹولرینس
- فاسٹنگ گلوکوز: 100 mg/dL سے کم
- 2 گھنٹے بعد گلوکوز: 140 mg/dL سے کم
پری ذیابیطس
Impaired Fasting Glucose (IFG)
- فاسٹنگ گلوکوز: 100–125 mg/dL
Impaired Glucose Tolerance (IGT)
- 2 گھنٹے بعد گلوکوز: 140–199 mg/dL
ذیابیطس
ذیابیطس کی تشخیص اس وقت کی جاتی ہے جب:
- فاسٹنگ گلوکوز: 126 mg/dL یا اس سے زیادہ ہو، یا
- 2 گھنٹے بعد گلوکوز: 200 mg/dL یا اس سے زیادہ ہو۔
ذیابیطس میں OGTT کیوں تجویز کیا جاتا ہے؟
ذیابیطس میں OGTT اس لیے تجویز کیا جاتا ہے کہ پتا چلے کسی شخص میں:
- نارمل گلوکوز ٹولرینس موجود ہے
- پری ذیابیطس موجود ہے
- ذیابیطس موجود ہے
یہ ٹیسٹ خاص طور پر گلوکوز چیلنج کے بعد جسم کے ردِعمل کا جائزہ لیتا ہے، اس لیے ایسے مریضوں میں مفید ہوتا ہے جن کے فاسٹنگ بلڈ شوگر یا HbA1c کے نتائج واضح نہ ہوں۔
ذیابیطس کے لیے OGTT کب کروانا چاہیے؟
OGTT درج ذیل حالات میں تجویز کیا جا سکتا ہے:
- فاسٹنگ بلڈ شوگر کے نتائج بارڈر لائن یا غیر واضح ہوں۔
- HbA1c کے نتائج علامات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔
- پری ذیابیطس کا شبہ ہو۔
- نارمل فاسٹنگ شوگر کے باوجود ذیابیطس کا شبہ ہو۔
- گلوکوز میٹابولزم کا مزید تفصیلی جائزہ درکار ہو۔
حمل کی ذیابیطس میں OGTT کیوں اہم ہے؟
OGTT کو حمل کی ذیابیطس کی تشخیص کے لیے سب سے اہم ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے کیونکہ حمل کے دوران قدرتی طور پر انسولین کے خلاف مزاحمت (Insulin Resistance) بڑھ جاتی ہے۔
بعض حاملہ خواتین میں:
- فاسٹنگ بلڈ شوگر نارمل ہو سکتی ہے۔
- HbA1c نارمل ہو سکتا ہے۔
- لیکن کھانے کے بعد شوگر غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔
OGTT ایک معیاری گلوکوز چیلنج کے بعد خون میں شوگر کی پیمائش کرکے ایسی خرابیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
OGTT کے بغیر حمل کی ذیابیطس کے بہت سے کیسز تشخیص سے محروم رہ سکتے ہیں۔
گائناکالوجسٹ حمل کے دوران OGTT کیوں تجویز کرتی ہیں؟
گائناکالوجسٹ OGTT اس لیے تجویز کرتی ہیں کیونکہ یہ حمل کی ذیابیطس کی تشخیص کا معیاری طریقہ ہے۔
یہ ٹیسٹ معلوم کرتا ہے کہ آیا حمل کے دوران پیدا ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں نے جسم کی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے یا نہیں۔
OGTT ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جو صرف فاسٹنگ بلڈ شوگر ٹیسٹ سے معلوم نہیں ہو سکتیں، اسی لیے یہ حمل کے دوران ایک اہم اسکریننگ اور تشخیصی ٹیسٹ ہے۔
حمل کی ذیابیطس کے لیے OGTT کب کروایا جاتا ہے؟
زیادہ تر حاملہ خواتین میں OGTT اسکریننگ عام طور پر حمل کے 24 سے 28 ہفتوں کے درمیان کی جاتی ہے۔
اگر خطرے کے عوامل زیادہ ہوں تو معالج پہلے بھی یہ ٹیسٹ تجویز کر سکتی ہے۔ حتمی وقت کا تعین گائناکالوجسٹ یا ماہرِ امراضِ نسواں کرتی ہے۔
کون سے عوامل OGTT کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں؟
ناکافی فاسٹنگ
ٹیسٹ سے پہلے کھانا یا کیلوریز والی کوئی چیز پینا نتائج کو غلط بنا سکتا ہے۔
شدید بیماری
انفیکشن، بخار یا دیگر بیماریوں کی وجہ سے بلڈ شوگر عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے۔
ادویات
بعض ادویات گلوکوز میٹابولزم کو متاثر کر سکتی ہیں، مثلاً:
- کورٹیکوسٹیرائڈز (Corticosteroids)
- (گردے کے علاج) تھائیزائڈ ڈائیوریٹکس (Thiazide Diuretics)
- بعض اینٹی سائیکوٹک (دماغی) ادویات
- بعض ہارمونل علاج
جسمانی سرگرمی
ٹیسٹ سے پہلے غیر معمولی ورزش نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔
تمباکو نوشی
ٹیسٹ سے پہلے یا دورانِ ٹیسٹ سگریٹ نوشی گلوکوز ٹولرینس پر اثر ڈال سکتی ہے۔
ذہنی یا جسمانی دباؤ
اسٹریس بلڈ شوگر میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ٹیسٹ کے دوران قے آنا
اگر مریض گلوکوز محلول برقرار نہ رکھ سکے تو ٹیسٹ غیر مؤثر ہو سکتا ہے۔
حالیہ غذائی تبدیلیاں
بہت کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا ٹیسٹ کے نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔
اہم خلاصہ
- OGTT یہ جانچتا ہے کہ جسم گلوکوز والے معیاری مشروب کے بعد شوگر کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔
- یہ پری ذیابیطس، ذیابیطس اور حمل کی ذیابیطس کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
- ٹیسٹ کے لیے رات بھر فاسٹنگ کے بعد گلوکوز دیا جاتا ہے اور مقررہ اوقات میں خون کے نمونے لیے جاتے ہیں۔
- غیر حاملہ افراد میں 2 گھنٹے بعد بلڈ شوگر 200 mg/dL یا اس سے زیادہ ہو تو ذیابیطس کی تشخیص کی جاتی ہے۔
- حمل میں فاسٹنگ شوگر 92 mg/dL یا اس سے زیادہ، 1 گھنٹے بعد 180 mg/dL یا اس سے زیادہ، یا 2 گھنٹے بعد 153 mg/dL یا اس سے زیادہ ہونے پر حمل کی ذیابیطس تشخیص کی جاتی ہے۔
- حمل کی ذیابیطس کی اسکریننگ کے لیے OGTT عموماً 24 سے 28 ہفتوں کے درمیان کیا جاتا ہے۔
- گائناکالوجسٹ OGTT پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ یہ شوگر میٹابولزم کی ایسی خرابیوں کو ظاہر کر سکتا ہے جو صرف فاسٹنگ شوگر سے معلوم نہ ہوں۔
- درست نتائج کے لیے مناسب فاسٹنگ، ادویات کا جائزہ، اور ٹیسٹ کی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔
Comments
Post a Comment